Facebook
Tiwiter
مقبول خبریں   
نیب نے 650 ارب کے مزید 29 میگاکرپشن سکینڈلز کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کردی
شاہدرہ:کالعدم تنظیم کے 5دہشتگرد رحیم یار خان سے بھارتی ایجنٹ گرفتار
گزشتہ مالی سال میں 95ارکان پارلیمنٹ نے کوئی ٹیکس نہیں دیا
چترال میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری
شادی کے سولہ سال بعد بد چلنی کا الزام ....بیوی کی ٹینڈ
امریکہ کی خبریں   
دورہ کینیا صدر اوباما نے رقص کرکے سب کو حیران کردیا
نیروبی( آن لائن ) امریکی صدربارک اوباما نے دورہ کینیا کے دوران صدارتی عشائیے میں رقص کر کے سب کو حیران کر دیا۔امریکی صدر بارک اوباما کےاعزاز میں کینیا کے صدر Uhuru Kenyatta, نے عشائیہ دیا جس میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سمیت پاپ اسٹار گروپ Sauti Sol کو بھی مدعو کیا گیا۔عشائیے کے دوران سوتی سول گروپ نے گانا گایا تو امریکا اورکینیا کے صدور سمیت کئی افراد خود کو روک نہ پائے اورمدھر گانے پر رقص کرنے لگے۔ یہ مناظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لئے۔امریکی صدرنے دورے کے دوران اپنے رشتے داروں سے بھی ملاقات کی ہے۔ یہ کسی بھی امریکی صدر کا کینیا کا پہلا دورہ ہے۔
امریکہ کے صدارتی انتخابات: اصل مقابلہ ہلیری اورجارج بش میں ہو گا
نیویارک (خصوصی رپورٹ) صدارتی الیکشن 2016ءکا بخار آہستہ آہستہ امریکن میڈیا پر چھاتا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس وقت سینکڑوں چھوٹے بڑے امیدوار میدان میں ہیں لیکن مبصرین توقع کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں صحیح معرکہ ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن اور ری پبلکن امیدوار جیب بش کے درمیان ہو گا۔ تاریخی طور پر زیادہ تر ان امیدواروں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کیلئے زیادہ رقم اکٹھی کی۔ 2012ءکے انتخابات میں صدر اوباما اور ان کے حامیوں نے 100ارب روپے سے زائد رقم اکٹھی جبکہ ان کے مقابل میٹ رومنی نے 99ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2012ءکے کانگریس کے انتخابات میں 84فیصد کامیاب امیدوار وہ تھے جنہوں نے اپنے مدمقابل امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ رقم جمع اور خرچ کی۔ اس وقت تک جو امیدوار میدان میں ہیں ان کی اب تک جمع کی گئی رقوم کا موازنہ کریں تو ہلیری کلنٹن اور جیب بش واضح برتری حاصل کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہلیری کلنٹن 30جون 2015ءتک 47.5ملین ڈالر جمع کر چکی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی انتخابی مہم میں 80فیصد سے زائد رقم ایسے افراد کی طرف سے آ رہی ہے جو 200ڈالر یا اس سے کم کی رقم چندہ کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ان کی انتخابی مہم پر روزانہ اڑھائی کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف جیب بش کی کل جمع شدہ رقم 114.4ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے‘ البتہ اس میں چھوٹے چندے دینے والوں کا حصہ صرف 11ملین ڈالر ہے جبکہ دولتمند افراد اور بڑی کاروباری کمپنیوں کی طرف سے تقریباً 100ملین ڈالرکا حصہ ڈالا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس الیکشن جس کے انعقاد میں ابھی 500سے زائد دن باقی ہیں کے اختتام پذیر ہوتے ہوتے یہ دنیا کی تاریخ کا مہنگاترین الیکشن ہو گا۔ امریکی جمہوریت بھی اب دولتمندوں کی محتاج نظر آتی ہے۔
خونخوا ر مردوخواتین کو اپنا خون پلانے والی منفرد امریکی خاتون
واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) آپ خود بھی خون کا عطیہ دیتے رہتے ہوں گے اور دوسرے لوگوں بھی خون دیتے ہوئے دیکھتے ہوں گے لیکن آج تک آپ نے ایسا کوئی خون دینے والا شخص نہیں دیکھا ہوگا جو دوسرے شخص کو اپنے جسم سے براہ راست خون پینے دے۔ امریکی ریاست لوئی سینیا کے شہر شرپو پورٹ کی ایک 28سالہ خاتون بلوٹ کچین شاید دنیا کی واحد خاتون ہے جو انسانی خون کے پیاسے افراد کو اپنے جسم سے براہ راست خون پینے دیتی ہے۔ برطانوی اخبار ”ڈیلی میل“ کی رپورٹ کے مطابق انسانی خون کے پیاسے ”ویمپائرز“ اس خاتون کے جسم میں نشتر سے زخم کرتے ہیں اور پھر زخم سے نکلنے والا خون پی جاتے ہیں۔ بلوٹ کچین گزشتہ 10سالوں سے خون خوار مرد خواتین کو اپنا خون پلارہی ہے اور وہ اس مقصد کے لیے امریکہ بھر میں سفر کرتی رہتی ہے۔ آج کل بلوٹ ہوسٹن کے رہائشی ایک 43سالہ شخص مائیکل ویکمیل کو اپنا خون پلارہی ہے۔ مائیکل کا کہنا ہے کہ بلوٹ کے خون میں مجھے وہ توانائی ملتی ہے جو میرے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔ بلوٹ اور مائیکل سال میں چند ملاقاتیں کرتے ہیں اور اس دوران مائیکل اس کا خون پیتا ہے۔ بلوٹ نے بتایا کہ میں بچپن ہی سے” ویمپائرز“ کا سن کر حیران ہوا کرتی تھی، مجھے میری بہن کی کتابوں میں سے ویمپائرز کے متعلق ایک کتاب ملی، اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں انسانی خون پینے والے مرد و خواتین سے بہت متاثر ہوئی تب سے میں نے انہیں اپنا خون پلانے کا فیصلہ کرلیاتھا۔
بھارتی فوج کو کشمیر سے واپس چلے جانا چاہیے ‘ امریکی دانشور نوم چومسکی
بوسٹن (اے پی پی) ممتاز امریکی فلسفی اور دانشور نوم چومسکی نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور بھارتی فوج کو کشمیر سے واپس چلے جانا چاہیے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوم چومسکی نے ان خیالات کا اظہار کشمیری مصنف محبوب مخدومی کے ساتھ تبادلہ خیالات کے دوران کیا ۔ محبوب مخدومی نے امریکی مصنف سے حال ہی بوسٹن کی ہاورڈ یونیورسٹی میں ملاقات کی۔ امریکی مصنف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 1980کی دہائی کے آخر میں ہونے والے جعلی انتخابات کے بعد سے مظالم میں خطرناک اضافہ ہو گیا۔ انہوں نے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی دونوں ملکوں کیلئے نقصان دہ ہے ۔ دونوں ہمسایہ ممالک کو امن کی طرف بڑھناچاہیے۔ محبوب مخدومی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی دانشور نے ملاقات کے دوران مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سنجیدہ مذاکرتی عمل ہونا چاہیے اور تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں کے درمیان اعتماد سازی ضروری ہے ۔انہوںنے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں اظہار خیال کر نے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن انکے خلاف سڑکوں پر آگئے تھے لہٰذا کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کےلئے انہیںایک بار دورہ بھارت کے دوران پولیس کی سکیورٹی لینا پڑی تھی۔
امریکی خاتون کو محبت پاکستان لے آئی‘ قبول اسلام‘ نکاح کرلیا
گوجرانوالہ (خصوصی رپورٹ) امریکی خاتون نے پاکستانی شہری سے فیس بک پر دوستی کے بعد پاکستان آکر اسلام قبول کرلیا اور گوجرانوالہ کے شہری انجم ریاض سے ضلع کچہری میں ایک وکیل کے چیمبر میں نکاح کرلیا۔ دولہا میڈیا کو دیکھ کر خاموشی سے فرار ہوگیا۔ امریکی ریاست جارجیا کی رہائشی 39 سالہ لیاسموکس کی گوجرانوالہ کے علاقہ ڈی سی کالونی کے رہائشی 38 سالہ انجم ریاض سے سوشل میڈیا پر چند سال قبل دوستی ہوئی۔
امریکی فوج نے 40 ہزار اہلکار فارغ کرنیکی منظوری دیدی
واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) امریکی فوج نے آئندہ دو سال کے دوران 40 ہزار اہلکاروں کو فارغ کرنے کے فیصلے کی توثیق کردی۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی فوج کے ڈائریکٹر منیجمنٹ بریگیڈیئر جنرل رینڈی جارج نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے فوج میں آئندہ دو سال کے دوران 40 ہزار اہلکاروں کو فارغ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد فوج میں افرادی کی کمی ٹارگٹ حاصل کرلیا جائے گا جبکہ 8 فیصد کٹوتی کے بعد آرمی کی افرادی قوت 4 لاکھ 90 ہزار سے گٹھ کر4 لاکھ 50 ہزار ہوجائے گی جبکہ ج افسران کو فارغ کیا جائے گا ان میں کیپٹن میجر اور سپاہی شامل ہیں جبکہ فوج کے لئے کام کرنے والی 17 ہزار سویلین کو بھی فارغ کرنا منصوبے میں شامل ہے۔
امریکہ کے ڈزنی ورلڈ کے ایک سکھ ڈاکیے نےقانونی جنگ جیت لی
نیویارک (این این آئی) امریکہ کے ڈزنی ورلڈ کے ایک سکھ ڈاکیے نے داڑھی اور پگڑی سے متعلق قانونی جنگ جیت لی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی داڑھی اور پگڑی کی وجہ سے انھیں صارفین سے دور رکھا جاتا ہے تاکہ صارفین انھیں داڑھی اور پگڑی کے ساتھ نہ دیکھ سکیں۔گردِت سنگھ کے وکلا کے مطابق ان کے موکل کو فلوریڈا کے تھیم پارک میں عملے اور صارفین سے الگ رکھا گیا تھا کیونکہ انھوں نے ظاہری حلیے کی پالیسی کی خلاف ورزی کی تھی ڈزنی کے مطابق گردت سنگھ تمام راستوں پر تمام صارفین کو ترسیل کا کام کر سکتے ہیں۔کمپنی کے مطابق وہ مذہب کی بنیاد پر تعصب نہیں کرتی۔گردت سنگھ 2008 سے اس تھیم پارک میں کام کر رہے تھے تاہم وہ ہمیشہ یہاں آنے والوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ انہوںنے کہاکہ وہ بے حد شکرگزار ہیں کہ ڈزنی نے اپنا رویہ تبدیل کیا ۔انہوںنے کہاکہ مجھے امید ہے کہ پالیسی کی اس تبدیلی سے سکھ مذہب اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ڈزنی میں اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کرنے کے دروازے کھل جائیں گے۔‘میری پگڑی اور داڑھی میرے عقیدے کے ساتھ میری مستقل وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سب کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ ہم سب برابر ہیں۔ یہ صرف سکھ مذہب کی اقدار نہیں بلکہ امریکی اقدار ہیں۔مئی میں امریکن سول لبرٹیز یونین اور سکھ مذہب کی وکالت کرنے والی تنظیم دی سکھ کولیشن کے وکلا نے ڈزنی کو گردت سنگھ کے ساتھ روا رکھے گئے برتاو¿ سے متعلق خط لکھا تھا۔اخط میں ان کا کہنا تھا کہ گردت سنگھ کو صارفین سے دور ترسیل کے صرف ایک روٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ دیگر عملے کو مختلف ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں جہاں وہ صارفین کو دکھائی بھی دیتے ہیں۔انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ’خاص طور پر ان کی نسل اور مذہبی ظاہری حالت کی وجہ سے ہے،‘ اور یہ شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ڈزنی نے انھیں تمام روٹس پر بحال کر دیا اور کہا کہ ’وہ تنوع پر یقین رکھتے ہیں اور مذہب کی بنیاد پر تعصب کے خلاف ہیں۔
لندن،ٹیوب ٹرین ملازمین کی ہڑتال
لندن(اے این این)لندن میں ٹیوب ٹرین ملازمین کی ہڑتال نے نظام زندگی درہم برہم کردیا۔ دن بھر لوگ دفاتر جانے کو ترستے رہے اور وقت پر منزل پر پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف رہا۔ لندن کے ٹیوب ٹرین ملازمین کی ہڑتال نے شہر کی رونق ماند کردی ہے۔ جو ٹرینیں لوگوں کو شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چندم نٹوں میں پہنچاتی تھیں، وہ پارکنگ لاٹ کا منظر پیش کررہی ہیں۔ جس کے سبب کام پر جانیوالوں کے لیے زندگی اذیت ناک بن گئی ہے۔ ہڑتالی ملازمین رات بھر سروسز کے خلاف بدھ کی شام 6بجے سے احتجاج کررہے ہیں اور ان کے سبب لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ لندن کے مئیر بورس جانسن نے ہڑتالی یونین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بسوں میں بے پناہ رش رہا، صاحب حیثیت افراد نے ٹیکسیوں کے ذریعے منزل تک پہنچنے کی کوشش کی، تاہم لوگوں کی اکثریت ٹرینوں کی راہ دیکھ دیکھ کر گھر لوٹ گئی۔
امریکی مسلمان عیسائی کلیسا کے پاسبان بن گئے
لندن (آن لائن) امریکا میں رواں ماہ صیام کے دوران امریکی مسلمانوں نے مساجد اور امام بارگاہوں کے لیے نہیں بلکہ عیسائی عبادت گا ہوں اور کلیساوں کے لیے فنڈ ریزنگ مہم شروع کردی ہے ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سیاہ فام امریکی صدر کے دیس میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاہ فام عیسائیوں کے چرچوں پر حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں کے علاوہ بعض چرچ قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثر ہوئے۔ ان کی تعمیرو مرمت کے لیے عیسائی آبادی کے ساتھ وہاں کے مسلمانوں نے بھی حصہ بہ قدر جثہ شمولیت کی ہے۔رپورٹ کے مطابق پچھلے چند ہفتوں کے دوران امریکا میں سیاہ فاموں کے چھ چرچ متاثر ہوئے۔ ان میں ایک چرچ پر17 جون کو ایک شدت پسند نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چرچ میں موجود نو سیاہ فام عبادت گذار ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا تھا۔ ۔ماہ صیام کے آغاز میں ریاست کیرولینا کی ایک مسلمان خاتون فاطمہ امہ اللہ نایت نے Launch Good کے نام سے چرچوں کی تعمیرو مرمت کے لیے ایک فنڈ ریزنگ مہم شروع کی ہے 23 سالہ فاطمہ خود اسی ریاست کی ایک یونیورسٹی میں علم لاھوت کی طالبہ ہیں۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے 10 ہزار ڈالر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ وہ پورا ہونے کے بعد 50 ہزار ڈالر کا ہدف رکھا گیا ہے۔ جمعرات تک اس میں 30 ہزار ڈالر جمع ہوچکے تھے۔رپورٹ کے مطابق فاطمہ کی فنڈ ریزنگ مہم کا مقصد قدرتی آفات یا دہشت گردی کا نشانہ بننے والے چرچوں کی بحالی ہے اور ان کی تعمیر نو ہے۔ چونکہ کچھ عرصے سے امریکا میں سیاہ فاموں کے کئی چرچوں کو یا قدرتی آفات کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے یا وہ انتہا پسندی اور مذہبی فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ کچھ روز قبل ریاست کیرولینا کے "گریلفیل" شہر میں واقع افریقی چرچ" جبل صہیون" میں خوفناک آتش زدگی ہوئی تھی جس کے نتیجے چرچ جل کر خاکستر ہو گیا تھا۔ اس آتشزدگی نے 20 سال قبل اسی علاقے میں انتہا پسند تنظیم Klan Klux Ku کے شدت عیسائیوں کے ہاتھوں چرچ کو جلائے جانے کی یاد تازہ کر دی تھی۔ ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان چرچوں کی تعمیرومرمت کے فنڈ ریزنگ میں حصہ لینے والی خواتین میں ایک فلسطینی سماجی کارکن بھی پیش پیش ہیں۔ فلسطینی سماجی کارکن لیندا صرصور امریکا میں کئی دوسری مہمات میں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ مسلمانوں کی جانب سے امریکا میں چرچوں کی تعمیر ومرمت کے لیے جاری فنڈ ریزنگ مہم محض ایک مالی معاونت کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے ذریعے یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ مسلمان صرف تخریب کار ہی نہیں بلکہ تعمیر کرنے میں مدد دینے والے بھی ہیں۔ مسلمان تو ان عبادت گاہوں کی تعمیر میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں جنہیں امریکیوں نے برباد کیا ہے۔
ضرب عضب سے دہشتگرد منتشر ہوئے‘ پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہوگا
¢اشنگٹن (آن لائن) امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہوگا۔ یہ پاکستان کے استحکام اور افغانستان میں امن کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ کانگریس کو بریفنگ میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار اور اّپریشن ضرب عضب کی تعریف بھی کی۔ امریکی میرین کور کمانڈنٹ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کانگریس کو بریفنگ میں بتایا کہ شدت پسندی کا خاتمہ پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ دونوں ملک القاعدہ کو شکست دینے کے لیے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کے تحت کام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف آپریشن میں پاکستان نے امریکا کو مدد فراہم کی ہے۔ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار اور اّپریشن ضرب عضب کی تعریف کی اور کہا کہ پاک فوج کی شمالی وزیرستان اور دیگرعلاقوں میں کارروائیوں سے شدت پسند گروپوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی شکست دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھنا ہوگا۔امریکا کو پاکستانی فوج کے ساتھ کام جاری رکھنا ہوگا اور گراونڈ لائنز آف کمیونیکیشنز کے حوالے سے بھی پاکستان کا تعاون قابل تعریف ہے۔
12345678910...
آج کے کالم