Facebook
Tiwiter
مقبول خبریں   
یمن بحران....ایران نے سعودی عرب کیخلاف کیا اہم فیصلہ
پاک چین دفاعی تعاون....بھارت کیلئے بڑا خطرہ
امریکہ عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ
امارات کی پائلٹ لڑکی مریم منصوری کو داعش کی خوفناک دھمکی
آئی سی سی نے محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن درست قرار دے دیا
امریکہ کی خبریں   
امریکہ عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ
واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) امریکہ کے معروف سیاسی تجزیہ کار نوم چومسکی نے کہا ہے کہ دنیا میں ایٹمی جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 70سال سے ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے‘ درحقیقت اس خطرے میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل دنیا میں دو بڑی ایٹمی ریاستیں ہیں۔ عالمی رائے عامہ کے مطابق امریکہ عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کوئی دوسرا ملک اس سلسلے میں امریکہ کے قریب بھی نہیں۔ امریکہ بذات خود سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کی مہم واشنگٹن میں چلائی جا رہی ہے۔
حیر ت انگیز ....بے عزتی کروانے کے لئے بھی ڈالر دو
لاس اینجلس (خصوصی رپورٹ) عموماً یہ سمجھا جاتاہے کہ ہرکوئی بے عزتی سے بچنا چاہتا ہے لیکن امریکی حسینہ کائرلینچ کہتی ہیں کہ ان سے روزانہ درجنوں مرد نہ صرف خوب بے عزتی کرواتے ہیں بلکہ اس کے بدلے بھاری رقم بھی ادا کرتے ہیں۔ 28سالہ کیا راآن لائن بے عزتی کرنے کی فیس اوسطاً ایک ڈالر فی منٹ کے حساب سے وصول کرتی ہیں۔کیارا نے بتایا کہ وہ یہ کام 17سالہ کی عمر سے کررہی ہیں اور وہ اس سے ڈھیروں ڈالر کمارہی ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب وہ 17سالہ کی لڑکی تھیں تو ایک ڈیٹنگ ویب سائٹ پر ایک مرد ان کے پیچھے پڑگیا اور وہ اس کی جتنی بے عزتی کرتیں وہ اتنی ہی زیادہ دلچسپی کااظہار کرتا۔ اس تجربے کے بعد انہوںنے ایسے مرد ڈھونڈنے شروع کردیئے اور پھر اپنا ویب چینل قائم کرلیا۔ وہ نہ صرف مردوں کی ڈانٹ ڈپٹ کرتی ہیں بلکہ گالیاں بھی نکالتی ہی اور طعنے بھی دیتی ہیں جنہیں کسٹمر مزے سے سنتے ہیں اور ناراض ہونے کی بجائے لطف اٹھاتے ہیں۔ وہ کسٹمرز کو استعمال شدہ زیر جامے اور دیگر ذاتی اشیاءبھی فروخت کرتی ہیں۔ کیارا اپنی خصوصی ویڈیوز ایک ڈالرفی منٹ میں پیش کرتی ہیں جبکہ ان کے ”بے عزتی شو©“ میں ماہانہ رکنیت کی فیس 40ڈالر ہے ۔ وہ روزانہ اپنی حسین وجمیل شکل کے ساتھ ویب کیمرے کے سامنے جلوگر ہوتی ہیں اور پھر دنیا بھر سے آن لائن منتظر مردوں کی خوب بے عزتی کرتی ہیں اور ان پر غصے کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ ان کے اکثر گاہکوں کا کہنا ہے کہ کیارا سے بے عزتی کا مزہ ہی اور ہے۔
نیا انکشاف ....سابق پاکستانی وزیر اعظم کو امریکہ نے قتل کروایا
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکہ نے افغان حکومت کے ذریعے قتل کروایا۔ امریکی منصوبے کے تحت افغان حکومت کے تیار کردہ قاتل کو دو ساتھی ملزمان نے قتل کیا اور دونوں معاون قاتل ہجوم نے روند دیئے۔ اس طرح قائد ملت کا قتل ایک سربستہ راز بن گیا۔ یہ انکشاف چند سال پہلے امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ری کلاسیفائیڈ کی گئی دستاویزات میں کیا گیا ہے۔ یہ دستاویزات اگرچہ 59 سال پرانی ہیں مگر پاکستان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ان دستاویزات مین اس جرم سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ اس وقت ایران کے تیل کے چشموں پر نظر رکھتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس دور میں ایران اور پاکستان کے تعلقات بہت زبردست ہیں اور ان دنوں 1950-51 میں افغانستان‘ پاکستان کا دشمن شمار ہوتا تھا اور افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ اس وقت امریکی صدر نے قائد ملت لیاقت علی خان سے سفارش کی تھی کہ اپنے قریبی دوستوں ایرانیوں سے کہہ کر تیل کے چشموں کا ٹھیکہ امریکہ کو دلوا دیں اس پر لیاقت علی خان نے دو ٹوک جواب دیا کہ میں ایران سے اپنی دوستی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا اور نہ ہی انکے داخلی معاملات میں مداخلت کروں گا۔ اگلے روز امریکی صدر ٹرومین کا لیاقت علی خان کو دھمکی آمیز فون موصول ہوا۔ لیاقت علی خان نے جواب میں کہا کہ میں ناقابل خرید ہوں اور نہ کسی کی دھمکی میں آنے والا ہوں یہ کہہ کر فون بند کر دیا اور حکم دیا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر پاکستان میں امریکہ کے جتنے طیارے کھڑے ہیں وہ پرواز کر جائیں اور اپنے ملک کو واپس چلے جائیں ادھر واشنگٹن ڈی سی میں اسی لمحے ایک میٹنگ ہوئی اور طے ہوا کہ نوابزادہ لیاقت علی خان ہمارے کام کا آدمی نہیں ہے دیکھئے کریکٹر دیکھئے لیاقت علی خان کا نہ وہ لالچ میں آتے ہیں اور نہ کسی دباﺅ میں آتے ہیں تو امریکہ نے پاکستان میں ایک کرائے کے قاتل کی تلاش بہت دوڑ دھوپ کے ساتھ شروع کر دی اس زمانے میں اس کا سفارتخانہ کراچی میں تھا جو پاکستان کا دارالخلافہ تھا اور کتنی خوشی کی بات ہے اور حیرت کی کہ امریکہ جیسے ملک کو پورے پاکستان میں کرائے کا ایک قاتل نہیں مل سکا پھر واشنگٹن ڈی سی سے کراچی میں امریکی اور کابل کے سفارتخانے کو فون کیا کہ قاتل کو افغانستان میں تلاش کیا جائے افغانستان کی پاکستان سے دشمنی تھی بھی تو امریکہ نے شاہ ظاہر شاہ کو یہ لالچ دیا کہ اگر تم لیاقت علی خان کا قاتل تیار کر لو تو ہم صوبہ پختونستان کو آزاد کرا لیں گے۔ افغان حکومت فوراً تیار ہو گئی بلکہ 3 آدمی ڈھونڈے ایک تو سید اکبر تھا جسے گولی چلانی تھی دو مزید افراد تھے جنہوں نے اس موقع پر سید اکبر کو قتل کر دینا تھا تاکہ کوئی نشان کوئی گواہ باقی نہ رہے اور قتل کی سازش دب کر رہ جائے تو 16 اکتوبر سے ایک دن پہلے سید اکبر اور اس کے وہ ساتھی جنہیں وہ اپنا محافظ سمجھتا تھا تینوں راولپنڈی آئے ایک ہوٹل میں ٹھہرے اور قبل از وقت کمپنی باغ میں اگلی صفوں میں بیٹھ گئے سید اکبر کے پاس لمبا سا کوٹ تھا جس میں اس نے دو نالی رائفل آرام سے چھپا رکھی تھی اس زمانے میں نہ تو بلٹ پروف شیشے ہوتے تھے نہ میٹل ڈی ٹیکترز ہوتے تھے جلسہ گاہ میں آنے والوں کے جیسے ہی لیاقت علی خان جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور اپنے خاص انداز میں کھڑے ہو کر کہا برادران ملت! تو سید اکبر نے اپنے کوٹ سے رائفل نکال کر 2 فائر کئے جو سیدھے بدقسمتی سے لیاقت علی خان کے سینے پر لگے اور آپ سٹیج پر گرے آپ کے آخری الفاظ یہ تھے ”خدا پاکستان کی حفاظت کرے“ آپ کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں سے 2 کارٹیجز نکلے جن پر امریکہ کی مہر بھی تھی اور جو 2 گولیاں سینے میں اتری تھیں وہ بھی نکال لی گئیں وہ ایسی گولیاں تھیں جو امریکی فوج کے اونچے درجے کے افسروں کو دی جاتی تھیں کرنلز کو اور ان سے بڑے رینک کے لوگوں کو‘ لیکن ہماری تفتیشی ٹیموں نے یہی سمجھا کہ باڑہ یا لنڈی کوتل کی بنی ہوئی مصنوعی گولیاں اور کارٹیجز ہیں اور ان کو اہمیت بھی نہیں دی ادھر کیا ہوا کہ کمپنی باغ میں جس وقت یہ شوٹنگ ہوئی ادھر سید اکبر کے جو محافظ بھیجے تھے افغانستان والوں نے انہوں نے سید اکبر کو فوری قتل کر دیا لیکن مشتعل ہجوم نے محافظوں اور سید اکبر کو پیروں تلے ایسا روندھا کہ ہمیشہ کے لئے وہ سازش چھپ کر رہ گئی اب ڈی کلاسیفائی ڈاکومنٹس نے اس معاملے کو صاف کیا ہے۔ واضح رہے کہ نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے حوالے سے آج تک مختلف کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں کبھی کہا گیا کہ قائد ملت کو گورنر جنرل غلام محمد نے قتل کرایا اور کسی نے ملبہ مشتاق احمد گورمانی پر ڈالنے کی کوشش کی۔ اس معاملے پر کمیٹیاں بھی بنیں اور کمیشن بھی تحقیقات کرتے رہے مگر نتیجہ صفر ہی رہا اور ایک خیال یہ بھی زبان زدعام رہا کہ لیاقت علی خان کا جھکاﺅ روس کی طرف تھا اور امریکہ نے انہیں ہمیشہ کیلئے راستے سے ہٹا دیا جبکہ اس کے برعکس یہ تھیوری بھی پیش کی جاتی رہی کہ لیاقت علی خان نے روس کے دورے سے انکار کر دیا تھا اس لئے روس نے انتقام لیا لیکن 60 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے یہ سارے راز کھول کر رکھ دیئے ہیں۔ اس حوالے سے انکشافات پر مبنی ڈاکٹر شبیر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں اس محب وطن شہری نے امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ری کلاسیفائیڈ کی گئی دستاویزات پر اپنا ردعمل پیش کیا ہے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کے پوتے معظم علی خان نے رابطہ کرنے پر آن لائن کو بتایا کہ یہ رپورٹ درست ہے۔ اس حوالے سے دستاویزات بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ امریکی محمکہ خارجہ کی طرف سے چند سال قبل دستاویزات آئی تھیں۔
ایک وقت میں 8مردوں سے شادیاں
نیویارک (خصوصی رپورٹ) ایک وقت میں 8مردوں سے شادیاں رچانے والی امریکی خاتون دھر لی گئی عرب ویب سائٹ کے مطابق 39 سالہ لیانا بارینٹوس نے سب سے پہلی شادی نومبر1999 میں محمد جربریل نامی شخص کے ساتھ کی ¾ اس کی آخری شادی مارچ 2010 میں کیتا نامی شخص کے ساتھ منظر عام پر آئی۔ لیانا کی شادیوں کے حوالے سے 2002 کا سال نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سال اس نے پاکستانی اور بنگلہ دیشی سمیت 6 مردوں کے ساتھ شادیاں رچائیں۔ 10 شوہروں میں مصر، ترکی، جارجیا، مالی اور چیکو سلواکیا کے مرد بھی شامل ہیں۔ 2002 میں 6 مردوں کے ساتھ شادی سے قبل لیانا 2 مردوں کی بیوی تھی اور پھر 6 شادیاں کرنے کے بعد بیک وقت 8 مردوں کی بیوی بن گئی۔جب پولیس کو شادیوں کی دلدادہ خاتون کے بارے معلوم ہوا تو اسے امریکی شہر نیویارک کی برونکس کالونی سے گرفتار کر لیا گیا۔ لیانا کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں غیر فطری طور پر متعدد شادیاں رچانے کے جرم میں اسے 4 برس قید کی سزا سنائی گئی۔امریکی پراسیکیورٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق لیانا نے 2001 میں بنگلا دیشی نژاد حبیب الرحمان کے ساتھ شادی کی، فرروی 2002 میں ڈیوٹ کوریٹزی کے ساتھ ، اس کے ایک ماہ بعد ڈوران کوکٹیپ، مارچ 2002 میں علیا اسکندر بھاریلاو¿، چند روز بعد فاختانگ دزینالدزی، جولائی میں پاکستانی نژاد رشید راجپوت اور پھر خابرخوربالدزی نامی شخص کے ساتھ شادی کی۔
امریکی کامیڈی شو میں اسلام پر تنقید
نیویارک (خصوصی رپورٹ) معروف امریکی مسلم صحافی فرید زکریا نے اسلام پر کھلی تنقید کرنے پر امریکی کامیڈی شو کے میزبان کو کھری کھری سنا دیں۔ کامیڈین بل مہر نے جب اسلام کو برے خیالات کا مجموعہ قرار دینے کی بات کو دہرایا تو سی این این کے صحافی فرید زکریا نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ 1.6 ارب افراد کے دل و دماغ ان کے مذہب کی توہین کرکے نہیں جیت سکتے۔ اصلاح کیلئے دلائل دیتے ہوئے مذہب کی تکریم کا خیال رکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف مغرب کی تعریف کے حصول کیلئے ایسا کر رہے ہیں جس کا مذہبی اصلاحات کے حوالے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ فرید زکریا
ہیلری کلنٹن امریکا کی بہترین صدر ثابت ہونگی،باراک اوباما
پانامہ سٹی (اے پی پی) امریکی صدر باراک اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی انتخابات سے قبل اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہیلری کلنٹن امریکا کی بہترین صدر ثابت ہونگی۔ اتوار کو ہیلری کلنٹن کی جانب سے 2016ءکے انتخابات میں صدارتی امیدوار کی باضابطہ انتخابی مہم سے قبل صدر باراک اوباما نے پانامہ سٹی میں امریکی سربرا اجلاس کے موقع پر اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن امریکا کی بہترین صدر ہونگی۔ باراک اوباما نے کہا کہ ہیلری کلنٹن 2008ءمیں مضبوط امیدوار تھیں۔ وہ انتخابات میں میری سب سے بڑی حمایتی اور ریاست کی نمایاں سیکرٹری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ میری دوست ہیں۔ میرے خیال میں ہیلری کلنٹن امریکا کی بہترین صدر ثابت ہونگی۔
یورپی باشندے کالے تھے‘ وہ گورے کیسے ہوگئے؟
بوسٹن (نیوز ڈیسک)آج یورپ کے طول و عرض میں گوری چمڑی والے انسان پائے جاتے ہیں مگر امریکی سائنسدانوں کی ایک حالیہ تحقیق میں دریافت ہوا ہے کہ کبھی یہاں سیاہ فام لوگ آباد تھے جنہیں مشرق کی طرف سے آنے والے انسانی ریلے نے سفید فام بنادیا۔ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان لین میتھیسن کا کہنا ہے کہ یورپ میں 40 ہزار سال قبل افریقہ سے آنے والے سیاہ فام لوگ آباد ہوئے۔ یہ لوگ جنگلی جانوروں کا شکار کرتے تھے اور جنگلی قبائل کی صورت میں رہتے تھے۔ تقریبا آٹھ ہزار سال قبل تک ان لوگوں کی رنگت سیاہ ہی تھی لیکن پھر مشرق قریب سے کاکیشین نسل کے لوگ یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے لگے اور انہیں میں سفید رنگ کے جینز بھی پائے جاتے تھے۔سائنس میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے یورپ کے مختلف مقامات سے 83 لوگوں کے جینیاتی زائچے کا تقابل جدید یورپ کے افراد کے جینیاتی زائچے کے ساتھ کیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ مشرق کی طرف سے آنے والے انسانوں نے یورپ کو گوری رنگت دی۔ مشرق سے آنے والے کاشتکاروں میں تین جینز ایسے تھے کہ جن کے سبب جنوبی یورپ کے سیاہ فام لوگوں کے ساتھ ان کی شادیوں کے نتیجے میں سفید فام نسل پیدا ہوئی ہے۔ تقریبا چھ ہزار سال پہلے سفید رنگت کے جینز یورپ میں بڑے پیمانے پر پھیل چکے تھے اور آنے والے کچھ ہزار سالوں کے دوران سارا یورپ سفید فام ہوگیا۔
پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ....عالمی طاقتیں خوفزدہ
نیویارک(خصوصی رپورٹ) ایران کے ساتھ جوہری ڈیل پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اداریئے میں زور دیا گیا ہے عالمی طاقتیں پاکستان پر توجہ دیں جو تیزی سے جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے چین سے 18 ڈیزل آبدوزیں خریدنے کی منظوری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کے پاس 120 ایٹمی ہتھیار ہیں اور 10 برس میں ان کی تعداد تین گنا کرلے گا۔
بے اولاد جوڑوں کے لئے انتہائی مفیدمشورہ
نیویارک(نیٹ نیوز)اولاد کی نعمت سے محروم جوڑے اس انمول تحفے کے حصول کیلئے ہر طرح کی تگ و دو کرتے ہیں اور بعض اوقات علاج پر لاکھوں کروڑوں بھی خرچ کردیتے ہیں۔لیکن ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تولیدی صحت کی بہتری کیلئے ٹماٹر کرشماتی اثرات رکھتے ہیں اور ٹماٹر کھانے سے مردوں میں سپرم کی تعداد میں 70 فی صد کا ناقابل یقین اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چونکہ اولاد نہ ہونے کا سبب جتنا عورت کے مسائل ہوسکتے ہیں اتنے ہی مردوں کے مسائل بھی بے اولادی کا سبب بن سکتے ہیں اور چونکہ ٹماٹر مردوں میں سپرم کی تعداد اور صحت میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتا ہے تو یہ عمومی تولیدی صحت کی بہتری کیلئے بہت ہی اچھی خبر ہے۔یہ تحقیقی رپورٹ امریکی ریاست اوہانیو کے کلیو لینڈ کلینک نے شائع کی ہے۔ ٹماٹر کی یہ حیرت انگیز خصوصیت اس میں موجود ایک مادے لائیکو پین کی وجہ سے ہے اور اسی جادوئی مادے کی وجہ سے ٹماٹر کا رنگ چمکدار سرخ ہوتا ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کے اس فائدے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بے اولاد جوڑے اولاد کی خوشیاں دیکھ سکیں۔ یاد رہے کہ صرف برطانیہ میں ہر چھ میں سے ایک جوڑا بے اولاد ہے۔
بھارت سونڈوالی بچی کی پیدائش ،دیوتا گنیش کا نیا جنم قرار دیدیا گیا
نیو دہلی (خصوصی رپورٹ) بھارتی ریاست اترپردیش میں سونڈ والی بچی کی پیدائش نے تہلکہ برپا کردیا ہے اور ملک کے کونے کونے سے لوگ ہندو مت کے دیوتا گنیش کے ”نئے جنم“ کو دیکھنے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔ علی گڑھ شہر کے ایک پسماندہ گاﺅں سے تعلق رکھنے والے ایک سبزی فروش کے ہاں پیدا ہونے والی بچی کی دونوں آنکھوں کے درمیان دیوتا گنیش کی طرح ایک سونڈ ابھری نظر آتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے اسے گنپتی یعنی گنیش کی دیوی کا نام دے دیا ہے۔ بچی کی آنٹی راجنی نے بتایا ہے کہ ان کی نند کے ہاں صبح سات بجے ایک بچی پیدا ہوئی جو بالکل دیوتا گنیش جیسی نظر آتی ہے۔
12345678910...
آج کے کالم