Facebook Tiwiter

مقبول خبریں   
امریکہ میں سیٹل اور ڈیلاس ائیر پورٹس پر بم کی اطلاع
پاکستان اسٹیٹ آئل کا جہاز تیل لے کر کراچی پہنچ گیا
موبائل فون سموں کی بائیو میٹرک تصدیق شہری پریشان
تھر پارکر میں حکومتی غفلت نے مزید 2 بچوں کی جان لے لی
رافیل نڈال آسٹریلین اوپن ٹینس کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
امریکہ کی خبریں   
نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی کا گستاخانہ کارٹونوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
نیویارک (سپیشل رپورٹر) نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی کے سب سے بڑے گڑھ کونی آئی لینڈ ایونیو بروکلین پر مکی مسجد کی سامنے نماز جمعہ کے بعد پاکستانی کمیونٹی نے گستاخانہ کارٹون کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے کہا کہ آزادی اظہار کے نام سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے والے شرپسند ہیں ۔ ہم ان کی شرپسندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
عقل ٹھکانے آگئی ،اخبارات کا خاکے چھاپنے سے انکار
پیرس(خصوصی رپورٹ) فرانسیسی رسالے پرحملے کے بعد دنیا کے کئی اخبارات اور رسائل نے توہین آمیز خاکے چھاپنے سے انکار کر دیا ہے۔ فرانسیسی رسالے نے چارلی ہیڈو نے توہین آمیز خاکے چھاپے ‘ مبینہ طور پر جس کے بعد تین مسلح افراد نے رسالے کے دفتر میں فائرنگ کرکے 12 افراد کو ہلاک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے بعد بھی دو مزید اخباروں نے توہین آمیز خاکے شائع کئے لیکن امریکہ کے بڑے اشاعتی اداروں اور خبارات نے توہین آمیز خاکے جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ نیو یارک ٹائمز ‘ وال سٹریٹ‘ رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ وہ کوئی ایسا مٹیریل کا یہ کارٹون شائع نہیں کرنا چاہتے جس سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ ہفتہ وار فرانسی جریدہ چارلی ہینڈو پہلے بھی سیاسی اور مذہبی رہنماﺅں سے متعلق متنازعہ مواد شائع کرچکا ہے۔ صرف یہی نہیں کئی بار توہین رسالت کا بھی مرتکب ہوا ہے۔
انا پرست ،شکی مزاج ،برتری کا احساس رکھنے والی لڑکیوں سے دُور رہنا ہی بہتر
نیویارک (خصوصی رپورٹ) ہمارے معاشرے میں اکثر یہ تاثر ملتا ہے کہ مرد ہمیشہ ہی غلط ہوتے ہیں اور خواتین درست لیکن بعض اوقات یہ بات یکسر غلط ہوتی ہے۔ کچھ خواتین ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے ساتھ رہنا مردوں کیلئے محال ہوجاتا ہے اور وہ فرار کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔ اناپرست ہونا ایک اچھی چیز ہے لیکن کسی بھی عادت کا حد سے زیادہ ہونا کافی مسائل جنم دیتا ہے۔ ایسی خواتین کی طرف مرد بہت جلد مائل ہوتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کی زندگی مشکل میں آنا شروع ہو جاتی ہے جس سے بہت مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین ہر چھوٹی بات پر مرد پر شک کرنا شروع کردیتی ہیں۔ گو کہ شک کرنا محبت کی نشانی ہے لیکن حد سے زیادہ شک رشتے میں کئی دراڑیں ڈالتا ہے۔ ایسی خواتین ہر وقت آپ کا فون دیکھتی رہتی ہیں۔ آپ کے میسج پڑھیں گی۔ آپ کے دوستوں پر نظر رکھیں گی۔ غرض کہ آپ کی ہر آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی جائے گی۔ میں سب سے بہتر ہوں: اگر خاتون پڑھی لکھی، لائق، صاحب روزگار ہو تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن ان کے ذہن کے کسی حصہ میں یہ بات آ جائے کہ وہ آپ سے بہتر ہیں تو پھر آپ کیلئے اس تعلق کو چلانا مشکل ہو جائے گا اور روزروز اس بات پر لڑائی بھی ہوگی۔ بہت زیادہ باتونی: باتیں کرننا ہر خاتون کی عادت ثانیہ ہے لیکن اگر خاتون حد سے زیادہ باتیں کرے تو پھر کافی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسی خواتین صرف اپنی باتیں کر کے آپ کی زندگی میں مسائل پیدا کرتی ہیں۔ میں کیا سوچ رہی ہوں: کچھ خواتین کو عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی سے ہر وقت یہ پوچھتی رہتی ہیں کہ ”بتائیں میں کیا سوچ رہی ہوں؟“ اگر آپ کو کسی ایسی خاتون سے پالا پڑ جائے تو شروع میں تو آپ برداشت کر لیں گے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آپ کو غصہ آنے لگے گا۔
ای سگریٹ نوجوان نسل کو نکوٹین کا عادی بنا رہا ہے
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی سائنسدانوں کے مطابق ای سگریٹ نوجوان نسل کو نکوٹین کا عادی بنا رہا ہے۔ یونیورسٹی آف ہوائی کینسر سنٹر کی ایک تحقیق جو ای سگریٹ نوشی کے حوالے سے1900 نوعمر طالب علموں پر کی گئی کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ امریکا بھر میں نوعمروں میں ای سگریٹ پینے کا رواج تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تحقیق کے دائرے میں لائی گئی تعداد کا 30 فیصد نے امر کا اظہار کیا کہ انہوں نے ای سگریٹ کا چسکا لینے کی کوشش کی ہے جبکہ 17 فیصد باقاعدگی سے ای سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ اس طرح2011 اور2012 کے مقابلے اس وقت ای سگریٹ کی طرف راغب ہونے والے نوجوانوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ یونیورسٹی کے پروفیسر تھامس ولز کے مطابق اکثر نوجوان یہ سوچ کر ای سگریٹ استعمال کرتے ہیں کہ اس کو چھوڑنا آسان ہے لیکن حقیقت میں یہ سچ نہیں سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
ٹائمز سکوائر نیویارک پر شہداءپشاور سے اظہار یکجہتی کی عظیم الشان ریلی
نیویارک(سپیشل رپورٹر سے ) نیویارک کے مصروف ترین علاقے ٹائمز سکوائر پر اتوار کو پاکستانی امریکن کمیونٹی کی تمام اہم سیاسی ، سماجی و کمیونٹی تنظیموں نے اکٹھے اور یک زباں ہو سانحہ پشاور کے سوگواران کے غم میں برابر کا شریک ہونے کا اعلان کیااوردہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔اس سلسلے میں کمیونٹی کی ایک اہم و نمائندہ تنظیم برونکس کمیونٹی کونسل نے کمیونٹی کی تمام سیاسی ، سماجی اور کمیونٹی تنظیموں کے تعاون اور کوارڈی نیشن سے یکجہتی ریلی منعقد کی جس کے انعقاد می امریکن مینارٹی ویمن کونسل نے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ یوں یہ یکجہتی ریلی آپ پارٹیز ریلی میں تبدیل ہو گئی ۔ ریلی میں پاکستان کے قونصل جنرل راجہ علی اعجاز اور قونصل چوہدری آفتاب احمد، نیویارک سٹیٹ اسمبلی مین مارک جونائی کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) امریکہ ¾ پاکستان ¾ پیپلزپارٹی امریکہ ¾ پاکستان تحریک انصاف ¾ پاکستان عوامی تحریک ¾ مسلم ڈے پریڈ ¾ پا کستان ڈ ے پریڈ ¾ بروکلین میلہ ¾ علامہ اقبال کمیونٹی سنٹرجعفریہ کونسل یو ایس اے ¾ پاکستانی کرسچیئن کمیونٹی،پاکستان لیگ آف امریکہ ، پاکستان لیگ آف یو ایس اے ¾PASNY,PACONY,PACOLI,ICNA,COPO خیبر سوسائٹی ¾ عوامی نیشنل پارٹی امریکہ ،حلقہ ارباب ذواق، یو ایس اے فریڈم فورم ، وکلاءبرائے حقوق سمیت دیگر تنظیموں کے قائدین اور ارکا ن نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ ریلی کے شرکاءنے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر شہداءپشاور کی تصاویر کے علاوہ ان کے حق میں نعرے درج تھے ۔ٹائمز سکوائر کے علاقے میں منعقد ہونیوالی وجہ سے یہ ریلی ہزاروں راہ گیر امریکیوں کی توجہ کا بھی مرکز بنے رہی ۔ ریلی سے قونصل جنرل راجہ علی اعجاز، قونصل چوہدری آفتاب ، اسمبلی مین مارک جونائی، شبیر گل، بازہ روحی، شیخ توقیر الحق، افضل گلبہار، روحیل ڈار، شفقت تنویر، علی خیام شاکر ،علی اکبر مرزا، طاہر خان، عتیق صدیقی ، اعجاز احمد شاہد، ڈاکٹر شفیق، تاج اکبر، ڈاکٹر جمشید، مرزا خاور بیگ، رانا رمضان، خالد اعظم،ساجد نقوی ،میاں فیاض ، ارشد خان ، نعیم بٹ ، آصف بیگ، راجہ رزاق پران، ولیم شہزاد، طاہر میاں ، سعید حسن، اشرف اعظمی،وحید سلطان، فریدہ خان، راجہ عابد، چوہدری رزاق گجر،عمران قاسم خان ، طارق رحمت ، فضل حق ، سلمان ظفر، سلمان شیخ، عابدہ ستار،ارشد خان، سلیم ملک حسن رضا،وحید سلطان سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ پشاور کے سکول میں معصوم بچوں کی زندگی سے خون کی ہولی کے کھیل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس المناک واقعہ پر پوری قوم اور امریکہ میں بسنے والی کمیونٹی خون کے آنسو روئی ہے ۔ہم سوگوار خاندانوںکے غم میں برابر کے شریک ہیں اور حکومت پاکستا ن اور پاکستان کی مسلح افواج سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ وہ ان درندوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے تمام عناصر کا صفایا کردیں اور انہیں نشان عبرت بنا دیں ۔ریلی کے شرکاءنے پاکستان میں دہشت گردوں کو پھانسی کی سزائیں دینے کے فیصلوں کو سراہتے ہوئے فوج کی جانب سے جاری ضرب عضب کی بھی مکمل حمایت کی ریلی میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی ۔ قونصل جنرل کی اہلیہ محترمہ عائشہ علی اعجاز نے بھی خصوصی شرکت کی ۔ ریلی کے موقع پر گذشتہ ہفتے نیویارک میں دو پولیس آفیسرز کی ہلاکت کے واقعہ کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس موق پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی آخر میں برونکس کمیونٹی کونسل کے شبیر گل نے خصوصی دعا کروائی جس میں شہداءپشاور کی ارواح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی اور پاکستا ن میں مکمل امن و سلامتی کے لئے دعا کی گئی۔ نیویارک سٹیٹ کے اسمبلی مین مارک جونائی نے خصوصی طور پر پاکستانی کمیونٹی سے تعزیت کا اظہار کیااور کہا کہ سانحہ پشاور دلخراش سانحہ ہے اور وہ اس غم میں سوگوار پاکستانی کمیونٹی کے سوگ میں برابر کے شریک ہیں
اٹھارہ 18 سالہ رفاقت کسی کام نہ آئی
نیویارک(خصوصی رپورٹ) امریکہ میں ایک خاتون نے دوستوں اور رشتہ داروں کے سامنے شرمندگی کا باعث بننے والے خاوند سے طلاق کے مطالبے کے ساتھ 2 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ شیری ایسٹر اشین اور میتھیو ایسٹرا مشین کی شادی 18 سال پہلے ہوئی اور وہ تین بیٹیوں کے والدین ہیں۔ خاتون کا موقف ہے کہ ان کے خاوند نے جان بوجھ بوجھ کر اولڈ ویسٹ بیری گولڈ اینڈ کنٹری کلب میں ان کے رکنیت کے واجبات ادا نہیں کیے جس کے باعث کلب نے ان کی رکنیت کی معطلی کے نوٹس لگا دیئے۔ انہوں نے بتایا کلب کے متعدد ممبران کے دوست اور ہمسائے ہیں اور رکنیت کی معطلی کے نوٹس سے ان کے سامنے بہت بے عزتی ہوئی ہے۔ لہذا میتھیو کیخلاف بھاری ہر جانے کا دعویٰ کر دیا ہے۔
پاکستان میں حز ب اختلاف کے مظاہروں نے جمہوری اداروں کیلئے چیلنج کھڑا کر دیا
واشنگٹن (خبریں ویب ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کےلئے امریکہ کے پرنسپل نائب نمائندہ خصوصی جیریٹ بلانک نے کہا ہے کہ پاکستان میں حزب اختلاف کے مظاہروں نے جمہوری اداروں کےلئے چیلنج کھڑا کر دیا، پاکستان نے جمہوری اور اقتصادی طور پر پیشرفت کی، قبائلی علاقوں میں کئی آپریشنز کرچکا ہے، پاکستان کی ناقص کارکردگی پر تنقید کرنا تو آسان ہے لیکن اس کی کامیابیاں بھی اتنی ہی آسانی سے نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ کانگریس کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے جیریٹ بلانک نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے جمہوری اور اقتصادی طور پر پیشرفت کی ہے مگر اس وقت اس کے ادار وں کو اپوزیشن کے ملک گیر احتجاج کے چیلنج کا سامنا ہے اور وہ ایک طوفان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قبائلی علاقوں میں کئی آپریشن کرچکا ہے لیکن شمالی وزیرستان میں اب تک کی سب سے بھرپور کارروائی کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی قربانیاں قابل تعریف ہیں اور امریکہ ان کا اعتراف کرتا ہے لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ عسکریت پسند گروپ اب بھی پاکستان، اس کے پڑوسیوں اور امریکہ کے لیے خطرہ ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آپریشن جاری رہے اور صرف ان کے محفوظ ٹھکانے ختم نہ کیے جائیں بلکہ انہیں دوبارہ منظم نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب دونوں پاکستانی اور افغان طالبان کو نشانہ بنا رہا ہے۔ فوجی آپریشنوں سے دہشت گردوں کی کارروائیوں کی اہلیت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد بھی شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ناقص کارکردگی پر تنقید کرنا تو آسان ہے لیکن اس کی کامیابیاں بھی اتنی ہی آسانی سے نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم، خوشحال پاکستان دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے پاکستان کا خطے میں تعمیری کردار اور بھرپور اثر ہے۔
امریکہ کا پاک فوج کی کامیابیوں اور قربانیوں کا اعتراف
واشنگٹن(این این آئی)امریکہ نے شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن ضرب عضب میں کامیابیوں اور قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سے دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ پاکستان اور امریکہ نے اتفاق کیا ہے کہ اتحادی امدادی فنڈ کی مدت ختم ہونے بعد پاکستان کو رقم کی ضرورت پڑےگی ¾دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستانی ضروریات کا خیال رکھا جاتا رہے گا ¾خطے میں امن و استحکام اور القاعدہ سمیت تمام دہشتگرد قوتوں کو شکست دینے کے لیے دوطرفہ تعاون بہت ضروری ہے۔پاک امریکہ دفاعی مشاورتی گروپ کا دو روزہ اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری ڈیفنس ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عالم خٹک نے کی ¾ امریکی وفد کی قیادت پالیسی پر سیکریٹری ڈیفنس کرسٹائن ای ورمتھ کر رہے تھے۔دفاعی مشاورتی گروپ دونوں اتحادی ملکوں کی دفاعی اسٹریٹیجی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کا مرکزی فورم ہے۔پاک امریکہ دفاعی مشاورتی گروپ کے 23ویں اجلاس میں دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ اتحادی امدادی فنڈ کی مدت ختم ہونے بعد پاکستان کو رقم کی ضرورت پڑےگی لہذا اس کی فراہمی کا کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے ¾اس فنڈ کی مدت رواں سال ختم ہو رہی ہے۔اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں وفود نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دہشتگردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستانی ضروریات کا خیال رکھا جاتا رہے گا۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور امریکہ نے رواں سال اتحادی امدادی فنڈ کے اختتام کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کےلئے رقم کی فراہمی کی اہمیت اور طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں دونوں ملکوں نے پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات میں مسلسل مثبت پیشرفت کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام اور القاعدہ سمیت تمام دہشتگرد قوتوں کو شکست دینے کے لیے دوطرفہ تعاون بہت ضروری ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ مضبوط دفاعی تعلقات کے ہمارے عزم کی تکمیل کے لیے ہمیں مشترکہ مفادات کی تکمیل پر توجہ دینا چاہیے۔اجلاس کے دوران شرکا نے دوطرفہ تعلقات پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے ملکوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات کا بھی ذکر کیا اور مستقبل میں دفاعی تعاون پر اتفاق کیا۔اس موقع پر امریکی وفد نے پاکستانی مہمانوں کو افغانستان میں سیکیورٹی سمیت مکمل صورتحال، امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے سیکیورٹی اور افغان افواج کو فراہم کی جانے والی تربیت سمیت مختلف معاملات سے معلومات بھی فراہم کیں۔
امریکہ سے محسن ظہیر ....امریکہ میں ریاست کے اندر ریاست
امریکہ میں سال 2014کا اختتام کچھ اچھی یادوں کے ساتھ نہیں ہو رہا ۔میں ان یادوں کو اچھا نہ ہونا کہہ رہا ہوں ۔ یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے کہ جو ان یادوں کو اچھا بھی قرار دے رہے ہیں ۔یہ یادیں تین اہم واقعات کے گرد گھومتی ہیں ۔پہلے دو واقعات رواں سال کے وسط میں امریکی ریاست نیویارک کے بورو سٹیٹن آئی لینڈ اور دوسرا ریاست میوزی کے شہر فرگوسن میں پیش آیا۔ سٹیٹن آئی لینڈ (نیویارک) میں ایک سیاہ فام شخص ایرک براو¿ن کو سفید فام پولیس آفیسر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کیا تو دمہ کے مرض میں مبتلا یہ شخص سانس گھٹنے کی وجہ سے موقع پر ہی دم توڑ دیا ۔فرگوسن میں پیش آنیوالا دوسرا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے جس میں ایک سیاہ فام جواں سال مائیکل براو¿ن کو سفید فام پولیس آفیسر نے ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانیوالی ہاتھا پائی کی کوشش میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ امریکی نظام عدم کے نیویارک اور فرگوسن میں مقامی عدالتوں کی جانب سے گرینڈ جیوری بٹھائی گئی جن کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ سفید فام پولیس آفیسرز پر سیاہ فام امریکی کی ہلاکت اور پولیس فورس کے بے جا استعمال کی فرد جرم عائد کی جائیں یا ناں ؟ تیسرا اہم واقعہ امریکی سینٹ میں چند سال پہلے پیش آیا جہاں ایک سماعت کے دوران امریکی ارکان سینٹ کو بھنک پڑی کہ خارجی محاذ پر امریکہ کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرنے والے ادارے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے حکام و اہلکار زیر حراست قیدیوں سے ان کے جرائم کا اعتراف کروانے اور اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے تشدد کے وہ راستے اختیار کررہے ہیں کہ جو نہ صرف امریکی قواعد و ضوابط اور امریکی اقدار کے منافی ہیں۔ معاملے کی چھان بین کے لئے سینٹ کی سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس بیٹھ گئی جہاں سی آئی اے کے حکام کو طلب کرنے کے علاوہ ایک عرصے تک سی آئی اے کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں فراہم کی جانیوالی دستاویزات اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ مذکورہ تینوں واقعات کے حوالے سے فیصلے ان چند ہفتوں میں سامنے آئے ہیں ۔ پہلے فرگورسن میں بیٹھی جیوری نے فیصلہ دیا کہ مائیکل براو¿ن کیس کی سماعت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا گیا کہ ایسا کوئی جواز نہیں سفید فام پولیس آفیسر ولسن پر مائیکل براو¿ن کی ہلاکت کے کیس میں فرد جرم عائد کی جائے ۔ اگرچہ یہ فیصلے امریکی ریاست میوزوری کے شہر فرگوسن میں پیش آنیوالے واقعہ پر آیا تھا لیکن اس پر امریکی بھر میں ایفروامریکن (سیاسہ فام ) کمیونٹی کا شدید ردعمل سامنے آیا اور ان کے ساتھ سفید فام امریکیوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی دیا ۔ مشرق سے لیکر مغربی ساحلی ریاستوں تک جیوری سے اتفاق نہ کرنے والے سراپائے احتجاج بنے رہے مائیکل براو¿ن کیس کے چند دنوں کے بعد نیویارک میں ایرک گارنر کیس میں بیٹھی جیوری نے بھی سفید فام پولیس آفیسر کو بری الذامہ قرار دیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا تو اس نے جلتی پر تیلی کا کام کیا اور نیویارک سے لیکر کیلی فورنیا تک احتجاج اور ردعمل سامنے آیا جس کی شدت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے امریکی ایوان نمائندگان میں ایفر و امریکن ارکان کانگریس نے منفرد انداز میں ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ فضاءمیں بلند کئے جو کہ ان کا ایک علامتی احتجاج تھا اور دوسرا ہلاک ہونیوالے نہتے سیاہ فام امریکیوں کے لواحقین اور کمیونٹی سے یکجہتی کا اظہار بھی تھا۔ ارکان کانگریس کے بعد امریکی کانگریس میں کام کرنے والے بڑی تعداد میں سیاہ فام کانگریشنل ستاف ممبرز نے بھی کیپیٹل ہل پر واقع کانگریس کی بلڈنگ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر ہاتھ فضاءمیں بلند کرکے اپنے احتجاج اور یکجہتی کا اظہار بھی کیا ۔ میری نظر میں احتجاجی کے یہ انداز اس وقت غیر معمولی اہمیت کے حامل بنے کہ جب مظاہروں میں سے ایک مظاہرے کے دوران میں نے امریکہ میں شہری آزادیوں کی تحریک کی بازگشت سنائی دی ۔ ایریک گارنر کیس میں فیصلہ سامنے آنے کے بعد نیویارک میں ہونیوالے ایک مظاہرے میں مظاہرین نے نعرہ لگایا کہ امریکہ میں ایک بار پھر شہری آزادیوں کے حقوق کی تحریک چلانے جانے کا وقت آگیا ہے ۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ مذکورہ دو واقعات کے خلاف ہونے والے تمام تر احتجاج کے باوجووامریکی عوام ، پالیسی و قانون سازوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے کہ جو سمجھتے ہیں کہ فرگوسن اور نیویارک میں جیوری کے ارکان نے انساف کے مطابق فیصلے سنائے ۔ ان کا احترام کیا جانا چاہئیے ۔ نیویارک سے ریپبلکن کانگریس مین پیٹر کنگ کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ صدر اوبامہ کو امریکی کانگریس کے اپنے مشترکہ اجلاس (سٹیٹ آف دی یونین )س خطاب کے موقع پر فرگوسن پولیس کے سفید فام پولیس آفیسر وسن کو بھی مہمانون کی گیلری میں دیگر مہمانوں کے ساتھ مدعو کرنا چاہئیے ۔ سوال یہ نہیں ہے کہ تصویر کے دونوں رخوں میں سے کونسا صحیح اور کونسا غلط ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاہ فام کمیونٹی میں پائے جانیوالے اس تاثر اور احساس کو دورکرنا چاہئیے کہ ملک میں رنگ و نسل کی بنیاد کوئی امتیاز موجود ہے ۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کہیں جیوری کے نظام میں ، کہیں پراسیکیوٹر کی جانب سے کیس کو جیوری کےسامنے پیش کرنے کے طریقہ کار میں اور کہیں پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے میں ریاست کے اندر ریاست کا متوازی نظام تو نہیں چل رہا ! نیویارک اور فرگوسن کے واقعات پر ابھی لے دے ہو ہی رہی تھی کہ اس دوران امریکی سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی چئیرپرسن ڈائین فائن سٹائین کی جانب سے دس دسمبر کو امریکی سینٹ میں کمیٹی کی سی آئی اے کے اختیارات کے استعمال سے تجاوز کی رپورٹ ایک دھماکے کی شکل میں سامنے آئی ۔تمام تر کوشش کے باوجود دنیا کی سب سے طاقتور انٹیلی جنس سی آئی اے ، اپنے ہی ملک کی سینٹ میں اپنے ہی خلاف آنیوالی رپورٹ کو پیش ہونے سے نہ روک سکی ۔ رپورٹ کے مطابق اس خفیہ ادارے حکام نے اپنے بعض معاملات کے حوالے سے کانگریس اور وائٹ ہاو¿س کے ساتھ دروغ گوئی سے کام لیا بلکہ زیر حراست ملزمان سے معلومات او ر ان کے جرائم کے اعتراف کے سلسلے میں تشدد کے وہ راستے اختیار کئے کہ جن کی انہیں اجازت نہیں تھی ۔ سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی ایک عرصے تک جاری سماعت کے بعد پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل سی آئی اے کے بارے رپورٹ میں اخذ کردہ نتائج کا لب لباب سی آئی اے میں کچھ ریاست کے اندر ریاست جیسا نظام چلائے جانے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ سینٹ میں اس وقت وائٹ ہاو¿س کو کنٹرول کرنے والی ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت ہے ۔ سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی چئیرپرسن ڈائن فائین سٹائین بھی کیلی فورنیا سٹیٹ سے ڈیموکریٹ ہیں۔حال ہی منعقد ہونیوالے وسط مدتی الیکشن میں ڈیموکریٹس سینٹ میں اپنی اکثریت کھو چکے ہیں ۔ جنوری 2015میں قدامت پسند امریکی ریپبلکن پارٹی سینٹ کا کنٹرول سنبھال لے گی جو کہ دنوں کی بات ہے لیکن ڈیموکریٹ چئیرپرسن ڈائین فائن سٹائین نے اپنی چئیرپرسنی کے آخری دنوں میں رپورٹ کو پیش کرکے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے یہ طوفان ایک ردعمل کی شکل میں ان سب حکام کی جانب سے سامنے آیا کہ جن کے بارے میں سینٹ رپورٹ میں انگلیاں اٹھائی گئیں ۔سابق صدر جارج بش نے رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا ، سابق نائب صدر ڈک چینی کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کو کچرے کے ڈبے میں ڈال دینا چاہئیے ۔ سی آئی اے کے سابق سربراہ جارج ٹینٹ سمیت ایجنسی کے سابق و ریٹائر اعلیٰ حکام نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل میں اپنے لکھے ہوئے مشترکہ مضمون میں سی آئی اے اور اس کے کردار کا دفاع کرتے ہوئے اس کردار کو امریکی کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے قابل ستائش قرار دیا اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ سی آئی اے میں ریاست کے اندر ریاست کا نظام کہیں چل رہا ہے اور تو اور گیارہ دسمبر کو سی آئی اے کے موجودہ و حاضر سروس سربراہ جان برینن نے سی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرکے اپنی ایجنسی کا دفاع کیا جو کہ سی آئی اے کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے چئیر پرسن ڈائین فائین سٹائین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں ۔ انہوںنے سینٹ کے فلور پر کھڑے ہوکر رپورٹ پیش کرنے کے بعد اپنے اختتامی ریمارکس میں کہا کہ سی آئی اے نہیں چاہتی تھی کہ یہ رپورٹ عام کی جائے تاہم امریکی عوام کو ریاست کے تمام معاملات سے آگاہ رکھنا ہمارا فرض اور ان کا آئینی حق ہے انٹیلی جنس کمیٹی کی چئیرپرسن سے سبکدوش ہونیوالی سینیٹر فائین سٹائین سے ان کے سیاسی ریپبلکن حریفوں نے اختلاف کیا لیکن ان کے شانہ بشانہ سینیٹر جان میک کین کھڑے ہویئے جو کہ سینٹ میں سینئر ری پبلکن رہنما ہیں اور یاد رہے کہ صدر اوبامہ کے پہلے صدارتی الیکشن میں ان کے مدمقامل ریپبلکن صدارتی امیدوار بھی تھے ۔ یہ ہیں وہ یادیں کہ جن کے ساتھ امریکی عوام سال 2014کو رخصت کررہے ہیں ،یہ یادیں کتنی اچھی ہیں اور کتنی بری؟اس کا فیصلہ تو مستقبل کرے گا لیکن سینیٹر جان میک کین کے سینٹ فلور پر ریمارکس بڑءمعنی خیز تھے کہ حقائق کی تلخ گولی کو نگل لینا چاہئیے ۔ پاکستان میں بھی جو پرانے پاکستان کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں یا نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں ، وہ حقائق کی تلخ گولیوں کو نگل لیں ، افاقہ ہوگا۔
عوامی تحریک سے بھی مذاکرات کیے جائیں، وزیراعظم کی ہدایت
لاہور (خصوصی رپورٹ) وزیراعظم نواز شریف نے سیاسی مسائل کے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کیلئے مذاکراتی آپشن ہی بہتر آپشن ہے، مذاکرات سنجیدہ اور بامقصد ہونے چاہئیں جس کیلئے دونوں فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف تحریک انصاف سے ہی نہیں بلکہ عوامی تحریک سے بھی کئے جانے چاہئیں اور جس جس کے تحفظات ہیں وہ دور ہونے چاہئیں۔ جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، اسحاق ڈار، چودھری نثار، احسن اقبال، خواجہ آصف، خواجہ سعدرفیق، پرویز رشید، شاہد خاقان عباسی اور دیگر موجود تھے۔
12345678910...
آج کے کالم